The World is NOT For You | یہ دنیا تیرے کام کی نہیں

Rate this item
(1 Vote)

Click here for ENGLISH

 


یہ دنیا تیرے کام کی نہیں
میجر ریٹائرڈ غلام محمد

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ اَنْعَمَ عَلَیْنَا وَھَدٰنَا اِلٰی دِیْنِ الْاِسْلَام۔ بعد ازاں عرض ہے کہ رسول اللہﷺ نے ایک مرتبہ ایک انصاری صحابی کے سرہانے ملک الموت کو دیکھا تو فرمایا کہ میرے صحابی کے ساتھ نرمی کا معاملہ کرو۔ ملک الموت نے جواب دیا کہ آپ مطمئن رہیں میں ہر مومن کے ساتھ نرمی کا معاملہ کرتا ہوں اور کہا کہ جتنے آدمی شہروں میں یا دیہات اور جنگلوں پہاڑوں میں یا دریاؤں کے کنارے آباد ہیں ان میں سے ہر ایک کو دن میں پانچ مرتبہ دیکھتا ہوں ۔ اس لئے میں ان کے ہر چھوٹے بڑے سے بلاواسطہ واقف ہوں۔ پھر کہا کہ ائے محمدﷺ یہ جو کچھ ہے اللہ کے حکم سے ہے ورنہ میں اگر ایک مچھر کی روح بھی قبض کرنا چاہوں تو مجھے اس پر قدرت نہیں جب تک اللہ تعالٰی کا امر اس کیلئے نہ آ جائے ۔

قرآن عزیز میں انسان کی پیدائش کو مٹی کی طرف منسوب کیا گیا ہے لیکن در حقیقت وہ دس چیزوں کا جامع ہے جن میں سے پانچ عالمِ خلق کی ہیں اور پانچ عالمِ امر کی ۔ عالمِ خلق کے چار عنصر آگ ، پانی ، مٹی ،ہوا اور پانچواں نفس جبکہ عالمِ امر کی پانچ چیزیں قلب ،روح، سری ،خفی اور اخفیٰ ہیں۔

مرنے اور دفن ہونے کے بعد قبر میں انسان کا دوبارہ زندہ ہو کر فرشتوں کے سوالات کا جواب دینا پھر اس امتحان میں کامیابی اور ناکامی پر ثواب یا عذاب کا ہونا قرآن مجید کی دس آیات میں اشارتًا اور رسول کریمﷺ کی ستر احادیث متواترہ میں بڑی صراحت اور وضاحت کے ساتھ مذکور ہے لہٰذا حیات بر زخیہ میں مسلمان کو شک وشبہ کی گنجائش نہیں۔ قرآن و حدیث کی تصریحات کے مطابق مخلوقات کی تقدیریں اور ہر شخص کی عمر اور زندگی بھر میں ملنے والا رزق اور پیش آنے والی راحت یا مصیبت اور ان سب چیزوں کی مقداریں اللہ تعالٰی نے ازل میں مخلوقات کی پیدائش سے بھی پہلے لکھی ہوئی ہیں پھر بچہ کی پیدائش کے وقت فرشتوں کو بھی لکھوا دیا جاتا ہے اور ہر سال شب قدر میں اس سال کے اندر پیش آنیوالے معاملات کا چٹھا فرشتوں کے سپرد کردیا جاتا ہے۔ 
 

ہر انسان کے ساتھ کچھ حفاظت کرنے والے فرشتے مقرر ہیں جو اس کی حفاظت کرتے رہتے ہیں کہ اس کے اوپر کوئی دیوار وغیرہ نہ گر جائے یا کسی گڑھے اور غار میں نہ گر جائے یا کوئی جانور یا انسان اس کو تکلیف نہ پہنچائے۔ یہ محافظ فرشتے دین ودنیا دونوں کی مصیبتوں اور آفتوں سے انسان کی سوتے جاگتے حفاظت کرتے رہتے ہیں۔ حضرت کعب احبار ؓ فرماتے ہیں کہ اگر انسان سے یہ حفاظت خداوندی کا پہرہ ہٹا دیا جائے تو جنات ان کی زندگی وبال کردیں لیکن یہ سب حفاظتی پہرے اسی وقت تک کام کرتے ہیں جب تک تقدیِر الٰہی ان کی حفاظت کی اجازت دیتی ہے اور جب اللہ تعالٰی ہی کسی بندہ کو مبتلا کرنا چاہیں تویہ حفاظتی پہرہ ہٹ جاتا ہے ۔ عنصر غالب انسان کے وجود کا مٹی ہے مگر اس کو مٹی پتھر سے مارا جائے تو یہ تکلیف محسوس کرتا ہے ۔ اسی طرح جنات کا عنصر غالب آگ ہے مگرخالص اور تیز آگ سے وہ بھی جل جاتے ہیں۔ یہ بات متعدد روایات سے ثابت ہے کہ کسی نیک بندے کی موت پر آسمان وزمین روتے ہیں۔

حضرت حسن بصریؒ سے منقول ہے کہ جس شخص کو نظر بد کسی انسان کی لگ جائے اس پریہ آیات پڑھ کر دم کردینا اس کے اثر کو زائل کر دیتا ہے۔ ’’ وَاِنْ یَّکَادُالّذِیْنَ کَفَرُوا لَیُزْلِقُوْنَکَ بِاَبْصَارِھِمْ لَمَّاسَمِعُوْا الذِّکْرَ وَیَقُولُونَ اِنَّہٗ لمَجْنُونٌOوَمَاھُوَاِلَّاذِکْرُلِّلْعٰلَمِیْنَ ‘‘ (الَقلم)

الفاظِ حدیث میں لفظی تغیروتبدل جائز نہیں۔ آنحضرتﷺ نے ایک شخص کو یہ تلقین فرمائی تھی کہ جب سونے کے لئے بستر پر جائے تو یہ دعا پڑھے اٰمَنْتُ بِکتَابِکَ الّذِیْ اَنزَلْتَ وَنَبِیَّکَ الَّذِیْ اَرْسَلْتَ اس شخص نے نَبِیَّکَ کی جگہ َ رسُوْلِکَ پڑھ دیا تو آنحضرتﷺ نے پھر یہی ہدایت فرمائی کہ لفظنَبِیَّکَ پڑھا کرے ۔ حضرت عبداللہ بن عباسؓ فرماتے ہیں کہ میں نے کوئی جماعت محمدﷺ کے صحابہ سے بہتر نہیں دیکھی کہ دین کے ساتھ انتہائی شغف اور رسو ل اللہﷺ کے ساتھ انتہائی محبت و تعلق کے باوجود انہوں نے سوالات بہت کم کئے۔ کل تیرہ مسائل میں سوال کیا ہے ۔ حضورﷺ نے فرمایا’’ ایسا نہ ہو کہ میں تم سے کسی کو ایسا پاؤں کہ وہ اپنی مسند پر تکیہ لگائے بے فکری سے بیٹھے ہوئے میرے امر ونہی کے متعلق یہ کہہ دے کہ ہم اس کو نہیں جانتے ہمارے لئے تو کتاب اللہ کافی ہے جو کچھ اس میں پاتے ہیں اس کا اتباع کرلیتے ہیں‘‘(ترمذی ، ابوداؤد، ابن ماجہ ، بیہقی، امام احمد) جولوگ آج کل دنیا کو اس مغالطہ میں ڈالنا چاہتے ہیں کہ احادیث کا ذخیرہ جو مستند کتابوں میں موجود ہے وہ اس لئے قابل اعتبار نہیں کہ یہ زمانۂ رسولﷺ سے بہت بعد میں مدون کیا گیا ہے اول تو ان کا یہ کہنا بھی صحیح نہیں کیوں کہ حدیث کی حفاظت وکتابت خود عہدِ رسالتﷺ میں شروع ہوچکی تھی بعد میں اس کی تکمیل ہوئی۔ اس کے علاوہ حدیث رسولﷺ در حقیقت تفسیرِقرآن اور معانیِ قرآن ہیں۔ ان کی حفاظت اللہ تعالٰی نے اپنے ذمہ لی ہے پھر کیسے ہوسکتا ہے کہ قرآن کے صرف الفاظ محفوظ رہ جایءں معانی یعنی احادیث رسولﷺ ضائع ہو جایں۔

اپنی شرم گاہوں کو محفوظ رکھیں اس میں زنا، لواطت اور دو عورتوں کا باہمی سحاق جس سے شہوت پوری ہو جائے اور ہاتھ سے شہوت پوری کرنا یہ سب نا جائز و حرام ہیں ۔ امام اعظم ابو حنیفہؒ نے فرمایا کہ غیر فطری فعل کرنے والے کو ایسی ہی سزا دینا چاہیے جیسے قوم لوط کو اللہ تعالٰی کی طرف سے دی گئی کہ آسمان سے پتھر برسے ،زمین کا تختہ الٹ گیا۔ اس لئے اس شخص کو کسی اونچے پہاڑ سے گرا کر اوپر سے پتھراؤ کر دیا جائے ۔ حضرت خالد بن ولیدؓ نے حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو خط لکھا کہ یہاں عرب کے ایک علاقہ میں ایک مرد ہے جس کے ساتھ عورت والا کام کیا جاتا ہے ۔ حضرت ابوبکرؓ نے اس سلسلہ میں صحابہ کرام کو جمع کیا اور ان میں حضرت علیؓ بھی تشریف لائے۔ حضرت علیؓ نے فرمایا کہ یہ ایک ایسا گناہ ہے جس کا ارتکاب سوائے ایک قوم کے کسی نے نہیں کیا اور اللہ جل شانہ نے اس قوم کے ساتھ جو معاملہ کیا وہ آپ سب کو معلوم ہے ۔ میری رائے ہے کہ اسے آگ میں جلادیا جائے۔ دوسرے صحابہ کرام نے بھی اس پر اتفاق کیا اور حضرت ابو بکرصدیق ؓ نے اسے آگ میں جلا دینے کا حکم دے دیا۔ رسول اللہﷺ کا فرمان ہے جس کو تم قوم لوط کی طرح غیر فطری حرکت کرتا ہوا دیکھو تو فاعل اور مفعول دونوں کو مارڈالو۔

رسول اللہﷺ کسی انصاری صحابی کے جنازہ میں تشریف لے گئے ۔ ابھی قبر کی تیاری میں کچھ دیر تھی تو ایک جگہ بیٹھ گئے اور صحابہ کرام آپﷺ کے گرد خاموش بیٹھ گئے ۔ آپﷺ نے سر مبارک اٹھاکر فرمایا بندۂ مومن کے لئے جب موت کا وقت آتا ہے تو آسمان سے سفید چمکتے ہوئے چہروں والے فرشتے آتے ہیں جن کے ساتھ جنت کا کفن اور خوشبو ہوتی ہے اور وہ مرنے والے کے سامنے بیٹھ جاتے ہیں پھر فرشتہ موت عزرائیل ؑ آتے ہیں اور اس کی روح کو خطاب کرتے ہیں کہ ائے نفس مطمئنہ رب کی مغفرت اور خوشنودی کے لئے نکلو ۔ اس وقت اس کی روح اس طرح بدن سے باآسانی نکل جاتی ہے جیسے کسی مشکیزہ کا دہانہ کھول دیا جائے تو اس کا پانی نکل جاتا ہے ۔ اس کی روح کو فرشتہ موت اپنے ہاتھ میں لے کر ان فرشتوں کے حوالے کر دیتا ہے یہ فرشتے اس کو لے کر چلتے ہیں۔ جہاں اس کو فرشتوں کا کوئی گروہ ملتا ہے وہ پوچھتے ہیں یہ پاک روح کس کی ہے۔ یہ حضرات اس کا وہ نام و لقب لیتے ہیں جو عزت احترام کے لئے اس کے واسطے دنیا میں استعمال کیا جاتا تھا اور کہتے ہیں کہ یہ فلاں ابن فلاں ہے یہاں تک کہ یہ فرشتے روح کو لے کر پہلے آسمان پر پہنچتے ہیں اور دروازہ کھلواتے ہیں۔ دروازہ کھولا جاتا ہے یہاں سے اور فرشتے بھی ان کے ساتھ ہو جاتے ہیں یہاں تک کہ ساتویں آسمان پر پہنچتے ہیں۔ اس وقت حق تعالٰی فرماتے ہیں کہ میرے اس بندے کا اعمال نامہ علیین میں لکھو اور اس کو واپس کر دو ۔ یہ روح پھر لوٹ کر قبر میں آتی ہے اور قبر میں حساب لینے والے فرشتے آکر اس کو بٹھاتے اور سوال کرتے ہیں کہ تیرا رب کون ہے اور تیرا دین کیا ہے ؟ وہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ تعالٰی ہے اور دین اسلام ہے۔ پھر سوال ہوتا ہے کہ یہ بزرگ جو تمہارے لئے بھیجے گئے ہیں کون ہیں ؟ وہ کہتا ہے یہ اللہ تعالٰی کے رسولﷺ ہیں ۔ اس وقت ایک آسمانی ندا آتی ہے کہ میرابندہ سچا ہے اس کے لئے جنت کا فرش بچھا دو اور جنت کا لباس پہنادو اور جنت کی طرف اس کا دروازہ کھول دو۔ اس دروازے سے اس کو جنت کی خوشبوئیں اور ہوائیں آنے لگتی ہیں اور اس کا نیک عمل ایک حسین صورت میں اس کے پاس اس کو مانوس کرنے کے لئے آجاتا ہے ۔
 
 
اس کے بالمقابل کافر ومنکر کا جب وقتِ موت آتا ہے تو آسمان سے سیاہ رنگ مہیب صورت فرشتے خراب قسم کا ٹاٹ لے کر آتے ہیں اور بالمقابل بیٹھ جاتے ہیں ۔ پھر فرشتہ موت اس کی روح اس طرح نکالتا ہے جیسے کوئی خاردارشاخ گیلی اون میں لپٹی ہوئی ہو، اس میں سے کھینچی جائے۔ یہ روح نکلتی ہے تو اس کی بدبو مردارجانور کی بدبو سے بھی زیادہ تیز ہوتی ہے۔ فرشتے اس کو لے کر چلتے ہیں راہ میں دوسرے فرشتے ملتے ہیں تو پوچھتے ہیں کہ یہ کس کی خبیث روح ہے۔ یہ حضرات اس وقت اس کا وہ برے سے برا نام و لقب ذکر کرتے ہیں جن کے ساتھ وہ دنیا میں پکاراجاتا تھا کہ یہ فلاں بن فلاں ہے یہاں تک کہ سب سے پہلے آسمان پر پہنچ کر دروازہ کھولنے کے لئے کہتے ہیں تو اس کے لئے آسمان کا دروازہ نہیں کھولا جاتا بلکہ حکم یہ ہوتا ہے کہ اس بندہ کا اعمال نامہ سجین میں رکھو جہاں نا فرمان بندوں کے اعمال نامے رکھے جاتے ہیں اور اس روح کو پھینک دیا جاتا ہے۔ وہ بدن میں دوبارہ آتی ہے۔ فرشتے اس کو بٹھا کر اس سے بھی وہی سوالات کرتے ہیں جو مومن بندے سے کئے تھے یہ سب کا جواب یہ دیتا ہے ھاہ ھاہ لا ادری میں کچھ نہیں جانتا ۔اس کے لئے جہنم کا فرش وجہنم کا لباس دے دیا جاتا ہے اور جہنم کی طرف دروازہ کھول دیا جاتا ہے جس سے اس کو جہنم کی آنچ اور گرمی پہنچتی رہتی ہے اور اس کی قبراس پر تنگ کردی جاتی ہے۔

یہود و نصارٰی جب تک یہودیت ونصرانیت کو بالکل نہ چھوڑ دیں وہ اہل کتاب میں داخل ہیں خواہ وہ کتنے ہی عقائد فاسدہ اور اعمال سیہ میں مبتلا ہوں ۔ کھانے پینے کی خشک چیزیں گیہوں چنا چاول اور پھل وغیرہ ہر کافر کے ہاتھ کا حلال و جائز ہے اس میں کسی کا کوئی اختلاف نہیں ۔ اہل کتاب یہود و نصارٰی کا ذبیحہ اور ان کی عورتوں سے نکاح حلال قرار دینے کی وجہ یہ ہے کہ ان کے دین میں سینکڑوں تحریفات ہونے کے باوجود ان دو مسئلوں میں ان کا مذہب بھی اسلام کے بالکل مطابق ہے اگر کوئی مسلمان معاذاللہ مرتد ہو کر یہودی یا نصرانی بن جائے تو وہ اہل کتاب میں داخل نہیں بلکہ وہ مرتد ہے اس کا ذبیحہ باجماع امت حرام ہے۔ حذیفہ ، طلحہ اور کعب بن مالک کو بھی ایسا ہی واقعہ پیش آیا کہ انہوں نے آیت مائدہ کی بنا پر اہل کتاب کی عورتوں سے نکاح کر لیا تو جب فاروق اعظم ؓ کو اس کی اطلاع ملی تو سخت ناراض ہوئے اور ان کو حکم دیا کہ طلاق دے دیں ان عورتوں میں عام طور پر عفت و پاکدامنی نہیں ہے۔(مفتی محمد شفیع مصنف معارف القرآن)
کسی شخص نے رسول اللہﷺ سے سوال کیا کہ مجاہدین میں سب سے زیادہ اجر و ثواب کس کا ہے تو آپﷺ نے فرمایا جو سب سے زیادہ اللہ کا ذکر کرے پھر پوچھا کہ روزہ داروں میں کس کا ثواب سب سے زیادہ ہے ؟ فرمایا جو سب سے زیادہ اللہ کا ذکر کرے پھر اسی طرح نماز زکوٰۃ اور حج و صدقہ کے متعلق سوالات کئے۔ ہر مرتبہ آپﷺ نے یہی فرمایا کہ جو اللہ کا ذکر زیادہ کرے وہی زیادہ مستحق اجر ہے (رواہ احمد ازابن کَثیر)

تمام کائنات کی حقیقی روح اللہ کا ذکر اور اس کی عبادت ہے یہی وجہ ہے کہ جس وقت زمین سے یہ روح نکل جائے گی اور زمین پر کوئی اللہ اللہ کہنے والا نہ رہے گا تو ان سب چیزوں کی موت آجائے گی۔ صحابہ نے عرض کیا ’’کیا فرشتوں کو تسبیح کرنے کے سوا اور کوئی کام نہیں اگر ہے تو پھر دوسرے کاموں کے ساتھ ہر وقت کی تسبیح کیسے جاری رہتی ہے ‘‘ فرمایا کیا تمہارا کوئی کام اور مشغلہ تمہیں سانس لینے سے روکتا ہے تسبیح فرشتوں کے لئے ایسی ہے جیسے ہمارا سانس لینا ۔

صحیح مسلم میں شب معراج کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ میں یوسف علیہ السلام سے ملا تو دیکھا کہ اللہ تعالٰی نے پورے عالم کے حسن و جمال میں سے آدھا ان کو عطا فرمایا ہے اور باقی آدھا سارے جہان میں تقسیم ہوا ہے ۔ یوسف علیہ السلام اور بن یامین دونوں بھائی بغیر ماں کے رہ گئے۔ ان کی تربیت پھوپھی کی گود میں ہوئی ۔ اللہ تعالٰی نے یوسف علیہ السلام کو بچپن سے ہی کچھ ایسی شان عطا فرمائی کہ جو دیکھتا ان سے محبت کرنے لگتا تھا پھوپھی کا بھی یہی حال تھا کہ کسی وقت ان کو نظروں سے غائب کرنے پر قادر نہ تھیں دوسری طرف حضرت یعقوب علیہ السلام کا بھی کچھ ایسا ہی حال تھا۔ جب وہ چلنے پھرنے کے قابل ہوگئے تو یعقوب علیہ السلام کا ارادہ ہوا کہ یوسف علیہ السلام کو اپنے ساتھ رکھیں پھوپھی سے کہا تو انہوں نے عذر کیا پھر زیادہ اصرار پر مجبور ہو کر یوسف علیہ السلام کو ان کے والد کے حوالے تو کر دیا مگر ایک تدبیر ان کو واپس لینے کی یہ کی کہ پھوپھی کے پاس ایک پٹکا تھا جو حضرت اسحاق علیہ السلام کی طرف سے ان کو پہنچا تھا اور اس کی بڑی قدروقیمت سمجھی جاتی تھی ۔ یہ پٹکا پھوپھی نے یوسف علیہ السلام کے کپڑوں کے نیچے کمر پر باندھ دیا۔ یوسف علیہ السلام کے جانے کے بعد یہ مشہور کیا کہ میرا پٹکا چوری ہوگیا پھر تلاشی لی گئی تو وہ یوسف علیہ السلام کے پاس نکلا۔ شریعت یعقوب علیہ السلام کے مطابق اب پھوپھی کو یہ حق حاصل ہوگیا کہ یوسف علیہ السلام کو اپنا مملوک بنا کر رکھیں۔ جب تک پھوپھی زندہ رہیں یوسف علیہ السلام انہی کی تربیت میں رہے ۔ اسی لئے حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائیوں نے بنیامین پر چوری کا الزام ثابت ہونے پر کہا ان یسرق فقد سرق اخ لہ من قبل ۔ اگر اس (بنیامین ) نے چوری (صواع کی) کرلی تو کچھ زیادہ تعجب کی بات نہیں ، اس کا ایک بھائی تھا اس نے بھی اسی طرح اس سے پہلے چوری کی تھی ۔ 

عزیز مصر کے انتقال کے بعد شاہ مصر نے حضرت یوسف علیہ السلام کی شادی زلیخا کے ساتھ کرا دی تھی یوسف علیہ السلام کے زلیخا سے دو لڑکے افرائیم اور منشا اور ایک لڑکی رحمت بنت یوسف پیدا ہوئے ۔ رحمت کا نکاح حضرت ایوب علیہ السلام کے ساتھ ہوا اور افرائیم کی اولاد میں یوشع بن نون پیدا ہوئے جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے رفیق تھے ۔ جب موسیٰ علیہ السلام کو حکم ہوا کہ بنی اسرائیل کو ساتھ لے کر مصر سے نکل جائیں تو بذریعہ وحی اللہ تعالٰی نے ان کو حکم دیا کہ یوسف علیہ السلام کی لاش کو مصر میں نہ چھوڑیں اس کو اپنے ساتھ لے کر ملک شام چلے جائیں اور ان کے آباؤ اجدادکے پاس دفن کریں ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ان کی قبر دریافت کی جو ایک سنگ مرمر کے تابوت میں تھی اس کو اپنے ساتھ ارضِ کنعان فلسطین لے گئے اور حضرت اسحٰق ؑ اور حضرت یعقوب علیہ السلام کے برابر دفن کردیا۔ 

حضرت ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں کہ ایک روز میں رسول اللہﷺ کے ساتھ باہر نکلا اسطرح کہ میرا ہاتھ آپﷺ کے ہاتھ میں تھا ۔ آپ کا گذر ایک ایسے شخص پر ہوا جو بہت شکستہ حال اور پریشان تھا آپ نے پوچھا کہ تمہارا یہ حال کیسے ہوگیا اس شخص نے عرض کیا کہ بیماری اور تنگدستی نے یہ حال کر دیا آپﷺ نے فرمایا کہ میں تمہیں چند کلمات بتاتا ہوں وہ پڑھو گے تو تمہاری بیماری اور تنگدستی جاتی رہے گی وہ کلمات یہ تھے ۔ 

تَوَکَّلْتُ عَلَی الْحَیِّ الَّذِیْ لَایَمُوْتُ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ لَمْ یَتَّخِذْوَلَدًاوَّلَمْ یَکُنْ لَّہْ شَرِیْکٌ فِی الْمُلْکِ وَلَمْ یَکُنْ لَّہُ وَلِیُّ مِنَ الذُّلِّ وَکَبِّرْہُ تَکِْبْیرًا(۱۱۱ )(بنی اسرائیل)

اس کے کچھ عرصہ کے بعد پھر آپﷺ اس طرف تشریف لے گئے تو اس کو اچھے حال میں پایا۔ آپﷺ نے خوشی کا اظہار فرمایا ۔ اس نے عرض کیا کہ جب سے آپﷺ نے مجھے یہ کلمات بتلائے تھے میں پابندی سے ان کو پڑھتاہوں۔
 
 

 

This World is of No Use to You

 

Major (Retd) Ghulam Muhammad

  

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ اَنْعَمَ عَلَیْنَا وَھَدٰنَا اِلٰی دِیْنِ اْلِاْسْلَام۔

Allah's ProphetSall-Allahu-Alaih-Wasallam once saw the Angel of Death by the bedside of an Ansari Companion, and asked him to be gentle with his Companion. The Angel of Death replied, "Please be at ease. I deal gently with every believer". He further said, "I see five times in a day each and every person living in the cities, villages, forests, mountains or along the rivers. So, I know all their whole lineage directly". He then said, "O MuhammadS-A-W, all of this happens because Allah has so Decreed. Otherwise, I don’t have the power to collect the soul of even a mosquito, unless Allah's Decree arrives about it".

In the Revered Quran, the creation of mankind has been attributed to dust. In reality, the human being is comprised of ten elements, out of which five are from the Realm of the Creation, and five are from the Realm of Command. The five elements from the World of the Creation are fire, water, earth, air, and Nafs, where as the five from the latter Realm include the Qalb, Rooh, Sirri, Khaffi, and Akhfa.

After a person dies and gets buried, he comes to life inside the grave and answers the questions of the angels, after which reward or punishment is dished out depending upon how he answers those questions. This is very clearly proven by 10 Ayaat of the Quran and 70 authentic Ahadees, so there is no room for any Muslim to have any doubt about life in the Barzakh. According to the explanations of the Ayaat and the Ahadees, Allah SWT has written the destiny, age, Rizq, happiness and troubles for every person even before the creation of mankind. When a child is born, the angels are notified about all these things with regards to him. Then, every year in the Night of Qadr, the plan of events for that year is handed over to the angels for execution.

A certain number of guardian angels are detailed with each person. They protect that person from accidents, such is something falling on him or him falling into a ditch or suffering harm from an animal or another person. These guardian angels protect a person from the troubles and calamities of the world and the Deen whether that person is awake or asleep. Hazrat Ka'ab AhbarRazi Allah Anhu says that if this shield of Divine protection, the Jinns will make their lives miserable. However, this protection only works until the Destiny written by God permits. And when Allah SWT has decided put someone into duress, this protective guard is revoked. Clay is the dominating element of man's construction, but when he is hit with a piece of clay, he does feel pain. Similarly, fire is the dominant element of the Jinn, but pure and intense fire burns them too. It is proven by several historical accounts that the earth and the sky weep when any righteous person dies.

Hazrat Hassan BasriRehmatullah Alaih is reported to have said that if a person is affected by someone's bad sight, the effects can be neutralized by reciting the following Ayat and blowing on the affected person.

وَاِنْ یَّکَادُالّذِیْنَ کَفَرُوا لَیُزْلِقُوْنَکَ بِاَبْصَارِھِمْ لَمَّاسَمِعُوْا الذِّکْرَ وَیَقُولُونَ اِنَّہٗ لمَجْنُونٌ ہ وَمَاھُوَاِلَّاذِکْرُلِّلْعٰلَمِیْنَ (القلم)

It is not allowed to alter the words of the Hadees. The Holy ProphetS-A-W once instructed a person to recite the following prayer when going to bed.

اٰمَنْتُ بِکتَابِکَ الّذِیْ اَنزَلْتَ وَنَبِیَّکَ الَّذِیْ اَرْسَلْت

 َThat person recited,"Rasoolika" instead of "Nabiyyika" upon which the Holy ProphetSAW again instructed him to recite "Nabiyyika". Hazrat Abdullah bin AbbasRazi Allah Anhu says that he has not seen any Jamaat better than the Jamaat of Muhammad'sS-A-W Companions. Despite having a keen interest in the Deen and extreme love of Allah's ProphetS-A-W, they asked very few questions. There are a total of 13 issues about which they have asked questions. HuzoorS-A-W said: ""It should not happen that I find amongst you such people, who, while reclining idly against their pillows, say about my orders and prohibitions that we don't know them. For us, the Book of Allah is sufficient. Whatever we find in it, we follow." (Tirmzi, Abu-Dawood, Ibn-Maja, Beqahi, Imam Malik). There are people today who want to confuse the world about the collection of the Hadees reported in the books. They say that the Hadees is unreliable, because it was compiled much after the Holy Prophet'sS-A-W era. Their assertion is absolutely wrong, because, to begin with, the preservation and recording of the Hadees had started in the times of the Holy ProphetS-A-W. Secondly, the Hadees of the ProphetS-A-W is, in fact, the explanation and meaning of the Quran. Allah SWT has taken the responsibility of protecting these meanings. How can it be possible that only the words of the Quran are protected, and its meanings, i.e. the Hadees, are lost?

Safeguard your private parts. This injunction includes adultery and homosexuality, and other ways of sexual gratification such as masturbation. They are all forbidden and Haraam. The Great Imam Abu HanifaRA has said that the one who engages in the unnatural sexual act should be punished in the same way as Allah punished the nation of LutAlaih as-Salam, who were hit with stone showers before the ground was inverted on them. Therefore, such a person should be pushed down from a high mountain and showered with stones. Hazrat Khalid bin WaleedRazi Allah Anhu wrote to Hazrat Abu Bakr SiddiqueRazi Allah Anhu that there was a man with whom people did what is done with a woman. Hazrat Abu BakrRAA gathered the respected CompanionsRAA, and Hazrat AliRAA was also present. Hazrat AliRAA said that it's such a sin that has been committed by none except for one nation. He said everyone present there knew what Allah, the Most High, had done to that nation. He opined that the man be burnt in fire. The other respected Companions also concurred and Hazrat Abu Bakr SiddiqueRAA issued the verdict to burn that man by fire. Allah's ProphetS-A-W has said that when you see someone doing the unnatural act like the nation of Lut, kill both the active and the passive partners participating in the act.

Allah's ProphetS-A-W attended an Ansari Companion's funeral. The grave was still being prepared, so he sat down and the Companions quietly sat around him. He lifted his blessed head and said that when a believer's time of death arrives, angels with fair, shining faces descend from the heaven. They carry the burial cloth and the scent from the Haven, and they sit beside the person who is about to die. Then, the angel of death IzraeelAlaih as-Salam arrives and addresses his spirit, 'O content spirit, come out for the Forgiveness and the Pleasure of your Rubb[1]'. At that moment, his spirit leaves his body as smoothly as water flows out from a water-pouch when its mouth is untied. The angel of death holds his spirit in his hands and gives it to the other angels, who then ascend with that spirit. Whenever they pass by a group of angels, the latter ask, 'whose blessed spirit is this?' The carrying angels mention the best of the names with which that person was known in the world, and say that he is so-and-so son of so-and-so. In this way, the angels reach the gate of the first heaven along with the spirit, and get the gate opened. More angels join them from there and they continue ascending all the way to the seventh heaven. At that time, Allah, the Truth, issues the Decree that the His slave's record of deeds be inscribed in the Illiyeen[2] and turn him around. This spirit returns to the grave, where the angels of accountability make him/her sitdown and ask the questions: "Who is your Rubb and what is your Deen?" He/she says, "My Rubb is Allah the Most High, and my Deen is Islam". Then, the angels ask, "Who is this saintly person that was sent for your sake?" He/she says that this is Allah's ProphetS-A-W. At that moment, a heavenly calling is heard: "My servant is truthful. Lay down for him/her the floor from the Paradise and dress him in clothes from the Paradise and open a window for him into the Paradise". The breezes and fragrances of Paradise start reaching that person from that window, and his/her pious deeds come to him/her in a beautiful form to make him/her feel comfortable.

In contrast to the above, when the time of a disbeliever's or denier's death arrives, dark faced, deadly looking angels descend from the sky along with a coarse, rough cloth, and sit opposite to that person. Then, the angel of death draws out the spirit from his body like a thorny branch is wrapped in wet wool and is pulled from it.  When this spirit comes out, its stink is more repugnant than the stink of a dead animal. The angels start rising holding that spirit. The other angels that they meet along the way ask who that wretched person was whose spirit they are carrying. The carrying angels mention the worst of the titles with which that person was called in the world, and say that he is so-and-so. When they reach the first heaven and ask for the gate to be opened, the gate is not opened and the Decree is issued to place the record of his deeds in the Sijjiyeen[3], where the records of the disobedient are kept. That spirit is then thrown back into the grave, where it reenters the body. The angels sit him down and ask the same questions that are asked from the believer's spirit. In reply to all of those questions, this person says:

ھاہ ھاہ لا ادری

"Alas, I know nothing!" The carpet of Hell and the clothes from Hell are provided to that person, and a window is opened towards Hell, through which he keeps receiving the heat and fire from there. And his grave is made constricted upon him.

Unless they openly renounce Judaism or Christianity, the Jews and the Christians are included among the People of the Book regardless of how distorted their beliefs and how dark their actions may be. It is permissible to consume dry food items such as wheat, pulses, rice and fruits that have been touched by a non-believer, and there's no disagreement about this permissibility among the different schools. The reason for permitting the slaughter and marriage with the women of the Christians and the Jews is that despite being riddled with hundreds of alterations, their religions conform to the Islamic way in these two matters. However, if a Muslim becomes an apostate by converting to Judaism or Christianity, such a person is not included among the People of the Book. That person is an apostate and his slaughter is forbidden (Haraam) by the unanimous agreement of the Ummah. Huzaifa, Taha and Kaab bin Maalik faced this situation when they married the women of the People of the Book because of the Verse of Ma'ida[4]. When the Great FarooqRazi Allah Anhu learned about it, he was very upset and ordered them to divorce those women. These women usually don’t have chastity and innocence. (Mufti Muhammad Shafi, Mu'arif-ul-Quran)

Someone asked Allah's ProphetSall-Allahu-Alaih-Wasallam who out of the Mujahideen qualifies for the highest reward. HeS-A-W said that whoever remembers Allah the most. He was then asked who, out of the fasting people, qualifies for the biggest and most reward. He replied that whoever remembers Allah the most. Similarly, he was asked about Namaz, Zakat, Hajj, and charity. Every time heS-A-W replied the same, that whoever performs more Zikr-Allah qualifies for a higher reward. (Reported by Ahmed via Ibn Kaseer)

The real spirit of the whole universe is Allah's worship and His Zikr. That's why when this spirit leaves the earth and there's no one left who says "Allah, Allah", everything will perish. The Companions humbly asked, "Do the angels have nothing to do except praising Allah? If they have other tasks to perform, how do they continue to praise Allah alongside everything else that they are doing?" (Allah's Prophet) said, 'Does any of your activities or pursuits keep you from breathing? Praising Allah is for angels just like breathing is for us.'

It is reported in Sahih Muslim's Hadees of the Night of Ascension that Allah's ProphetS-A-W said that when he met YousufAlaih as-Salam, he saw that Allah SWT had granted him half of the entire beauty in the universe, and distributed the left over half among the whole world. YousufAS and Binyamin were two brothers who had lost their mother. They were raised by their maternal aunt . AllahSWT had bestowed upon YousufAS such splendor that whoever set eyes on him couldn’t help but fall in love with him. His aunt also adored him so much that she could never let him out of her sight. Hazrat Yaqoob also felt the same way. When YousufAS started walking, YaqoobAS thought of bringing him back to live with him. When he asked his sister (Yousuf's aunt), she hesitated. Upon YaqoobAS,s insistence, she finally allowed YousufAS to go with his father. However, she had a plan to get YousufAS back. She had a waistband that she had inherited from Hazrat IshaqAS and that was considered very valuable. The aunt tied this band around Yousuf'sAS waist under his clothing. After he had left with his father, the aunt made it known that the waistband had been stolen. When a search was held, the band was found with YousufAS. According to Hazrat Yaqoob'sAS Shariah, the aunt now had the right to keep YousufAS as her possession. That's why when later on the theft was proven against Binyamin, Hazrat Yousuf'sAS brothers said:

ان یسرق فقد سرق اخ لہ من قبل

"It is no wonder if he (Binyamin) has committed theft. His brother had also committed a theft like this before."

After the death of Aziz of Egypt, the King of Egypt had wedded Hazrat YousufAS to Zulaikha. Two boys, Ifraeem and Mansha, and one girl, Rehmat binte Yousuf, were born out of the wedlock between YousufAS and Zulaikha. Rehmat was married to Hazrat AyubAS and from Ifraeem's progeny was born Yusha bin Noon, who was a Companion of Hazrat MusaAS. When Allah ordered Hazrat MusaAS to leave Egypt along with Bani Israil, Allah SWT also commanded him not to leave behind the body of YousufAS and to carry him to Syria for burial close to his ancestors. Hazrat MusaAS discovered his grave, which was encapsulated in a marble coffin. They carried the coffin with them to Arz Kin'an in Palestine, and buried him beside Hazrat IshaqAS and Hazrat YaqoobAS.

Hazrat Abu HurairaRazi Allah Anhu says that one day he came out with Allah's ProphetS-A-W, and his hand was in the Prophet'sS-A-W hand. They happened upon a person who seemed disheveled and extremely worried. The Prophet asked him how he had reached this condition. He replied that sickness and poverty had made him fall into such circumstances. The ProphetS-A-W said, 'I'll tell you a few words. If you recite those, your sickness and poverty will be gone.' Those words were:

تَوَکَّلْتُ عَلَی الْحَیِّ الَّذِیْ لَایَمُوْتُ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ لَمْ یَتَّخِذْوَلَدًاوَّلَمْ یَکُنْ لَّہْ شَرِیْکٌ فِی الْمُلْکِ وَلَمْ یَکُنْ لَّہُ وَلِیُّ مِنَ الذُّلِّ وَکَبِّرْہُ تَکِبْیرًا[5]

And say, "Praise to Allah , who has not taken a son and has had no partner in [His] dominion and has no [need of a] protector out of weakness; and glorify Him with [great] glorification." [17:111]

After some time had passed, the ProphetS-A-W again went in that direction and found that person in good circumstances. The ProphetS-A-W expressed his pleasure. That person told him that he had been reciting daily the words that the ProphetSall-Allahu-Alaih-Wasallam had taught him.



[1] An Arabic word that has meaning similar to the Caretaker or the Guardian

[2] The higher place where the good spirits live after death until the Judgment Day

[3] The lower place where bad spirits live from death until the Judgment Day

[4] A Chapter in the Holy Quran

[5] Bani Israil, 111

Back to Top